کو ئٹہ نےپی پی ایل بلوچستان فٹبال کپ 2016 اپنے نام کرلیا

کوئٹہ، 12 اگست2016 : پاکستان پیٹرولئیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے تعاون سے کھیلے گئے پی پی ایل بلوچستان فٹبال کپ 2016 کا فائنل12 گست کو ایوب اسٹیڈیم ، کوئٹہ میں کھیلا گیا۔ قبل ازیں، پہلے سیمی فائنل میں چمن (قلع عبداللہ) اور لورالائی جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں تربت(کیچھ) اورکوئٹہ کی ٹیمیں11 اگست کو مدِمقابل آئیں۔

وزیرداخلہ، قبائلی امور اور جیل خانہ جات، حکومتِ بلوچستان میرسرفرازخان بگٹی اورجنرل آفیسرکمانڈنگ ہیڈکوارٹرز33 ڈویژن میجر جنرل اظہرنوید حیات خان نے دیگرعہدےداران و علاقائی عمائدین کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی۔ میڈیا کے نمائندگان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سرفراز بگٹی نے ٹورنامنٹ کے لئے پی پی ایل کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ "حکومت مقامی آبادیوں اور آنے والی نسلوں کے لئے امن اور سماجی و اقتصادی بہتری کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے"۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی پی ایل کے ا یم ڈی و سی ای او پی پی ایل سید وامق بخاری نے حال ہی میں کوئٹہ میں رونما ہونے والے المناک حادثے کے باوجود مقامی افراد کی شمولیت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ" ہم صوبے میں امن و خوشحالی کے فروغ کے لئے پی پی ایل بلوچستان فٹ بال کپ کو سالانہ ایونٹ بنانا چاہتے ہیں" ۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے موئثر انتظامات پر بلوچستان کی صوبائی حکومت، سدرن کمانڈ اور ایچ کیو33 ڈویژن اور پاکستان فٹبال فیڈ ریشن کی تعریف کی۔

اس میگا ایونٹ کا آغاز26 جولائی 2016 کو ہوا جس میں چھ صوبائی ڈوژنز کوئٹہ ، قلات، مکران، سبی، ژوب اور نصیرآباد کی 32 ٹموں نے حصہ لیا جن کے درمیان کولیفائنگ راﺅنڈ میں 26 میچز کھیلے گئے۔ کوارٹر فائنلز قلعہ عبداللہ(چمن)، ہرنائی ، لورالائی، خضدار، تربت، خاران، کوئٹہ اور جعفر آبادکی ٹیموں کے مابین کھیلے گئے تھے ۔

بعد ازاں، سید وامق بخاری نے دیگر معزز مہمانوں کے ساتھ جیتنے والی اور رنراپ رہنے والی ٹیموں کے علاوہ بہترین کھلاڑیوں میں بھی انعامات تقسیم کئے ۔ پی پی ایل اور بلوچستان کے درمیان 1952 مں سوئی گیس فیلڈ کی دریافت سے اب تک 60 سال سے زائد عرصے کی طویل وابستگی رہی ہے۔ کمپنی نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت گراں قدر اقدامات کئےہیں جو وسیع سطح پر مقامی آبادی اور صوبے کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔