پی پی ایل کی یومیہ خالص پیداوار1بی سی ایف ای سے تجاوز کر گئی

کراچی،7 دسمبر2016 : پاکستان پیٹرولئیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) نے حال ہی میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے جب نومبر میں کمپنی کی یومیہ خالص پیداوار نے 1 بی سی ایف ایف کا ہدف عبور کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں 2014-15کے مقابلے میں موجودہ سال کی پیداوار میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کااضافہ ہو ا ہے۔

اس ہدف تک پہنچنے کی اہم وجہ 2015 کے وسط میں کمپنی کی اثاثہ جاتی بنیاد پرہائیبریڈ سیٹ اپ میں تشکیلِ نو ہے جس کے نتیجے میں اثاثوں کواز سرِ نو توجہ حاصل ہوئی جس سے کمپنی کی برسوں سے پیداواردینے والی فیلڈ ز کے زخائراور پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا۔ ان میں سے اہم کمپنی کے آپریٹڈ اثاثوں میں ریکارڈ 23 کنوﺅں کی کھدائی(جن میں سے 11 پیداواری کنوئیں:سوئی اور کندھ کوٹ میں چار چار، آدہی میں 2 اور گمبٹ ساﺅتھ میں 1 ) ،پیداواری صلاحیتوںمیں اضافہ کرناجس میں سوئی کمپریسرز کو بہتر بنانا اور مختلف فیلڈ ز میں موجود کنوﺅں پر ورک کے ساتھ ساتھ ہی آدہی و گمبٹ ساﺅتھ میں پیداوار کو پروسیس کرنے کی نئی تنصیبات سے کا م کا آغاز بھی شامل ہے۔

اس ضمن میں پی پی ایل کے پرانے پیداواری اثاثوں میں نمایاں مثبت اثرات اس طرح سے رہے کہ ماضی میں سوئی سے ہونے والے 6 فیصدسالانہ پیداواری انحطاط کو نہ صرف روکا گیا بلکہ اسے مثبت سمت میں لے جاتے ہوئے2014-15 کے مقابلے میں پیداوار میں تقریباً5 فیصد اضافہ کیا گیا۔ آدہی اور کندھ کوٹ فیلڈ زسے ہونے والی مجموعی پیداوار میں2014-2015کے مقابلے میں بالترتیب یومیہ 84 اور 159 ایم ایم ایس سی ایف ای کے مقابلے میں2016-17 میں یہ پیداواربالترتیب یومیہ111 اور 203 ایم ایم ایس سی ایف ای ہو گئی ہے۔

مستقبل کو مدِ نظررکھتے ہوئے پی پی ایل اپنی پیداواری کارکردگی میں مسلسل بہتر ی لا رہی ہے اورپیداوار میں اضافے کے لئے ایک سرگرم دریافتی پروگرام کا اطلاق کررہی ہے تاکہ متبادل ذخائر کی تلاش کے تناسب کوبہتر بنایا جا سکے۔2015-16 کے دوران،مثال کے طور پر ،کمپنی نے چھ دریافتیں کیں ا و ر آپریٹڈ بلاکس میں 12 دریافتی کنوئیں کھودے جس سے متبادل ذخائر کے حصول کاتناسب127 فیصد رہا۔