سوئی ، ڈیرہ بگٹی میں پی پی ایل کے تعاون سے تعمیر ہونے والی ورچوئل یونیورسٹی کیمپس کاافتتاح

سوئی،6 اپریل2017 :"ملک کے پسماندہ طبقوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور ا ن کی فلاح و بہبود کاواحد پائیدار طریقہ ان کی معیاری تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ پاکستان پیٹرولئیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) اپنی شراکت دار مقامی آبادی کی فلاح کے لئے اعلیٰ تعلیم کی ایک سہولت کے قیام پر فخر محسوس کرتی ہے"۔ ان خیالات کا اظہارایم ڈی و سی ای او سید وامق بخاری نے سوئی ، ڈیرہ بگٹی میں ورچوئل یونیورسٹی(وی یو) کے کیمپس کے افتتاح کے موقع پر کیا جس کی صدارت بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کی۔

مذکورہ کیمپس کے لئے کمپنی کی طرف سے 20 ملین روپے سے زائدخرچ کرنے اور آپریشنل لاگت کوپورا کرنے کے عہد کے ساتھ، وی یو کیمپس میں جدید طرز کے32 کمپیوٹراور ایک 8 ایم بی فائیبرآپٹک ولیو ایڈڈ نیٹ ورک پر مشتمل ایڈوانس کمپیوٹر لیب انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینجمنٹ اور فنونِ عامّہ میں بیچلرز، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ تک آن لائن کورسزکی سہولت فراہم کرے گی۔وی یو کا انتظام و انصرا م تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی ایک سول سوسائٹی تنظیم، تعلیم فاؤنڈیشن سنبھالے گی۔

سوئی کے دورے میں وامق بخاری نے بلوچستان پبلک اسکول(بی پی ایس) کے طالبعلموں کے لئے 100 وظائف دیئے۔سالانہ 2.3 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے یہ وظائف جماعت اول تا دہم ہر درجے کے10 طلباو طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی میں معاون ہوں گے۔

کمپنی نے 2007 میں بی پی ایس کے قیام سے ہی اس کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہے۔ابتدا میں اسکول کی تزئین وآرائش اور ہوسٹل کی تعمیر کے لئے 14 ملین روپے فراہم کئے گئے۔جس کے بعد 2009 میں بھی 70 سے زائد طلبا کو پا نچ سالہ مدت کے لئے 14 ملین روپے کی مالیت کے ثانوی تعلیمی وظائف دیئے گئے۔

بعدازاں ، وامق بخاری نے سوئی ماڈل اسکول و گرلز کالج کا دورہ کیا اور ثانوی اور کالج کے طلباو طالبات کے زیر استعمال نئی سائنسی لیب کا افتتاح کیا۔ پی پی ایل کے سب سے پہلے سماجی بھلا ئی منصوبے کے طور پراس کا آغاز پرائمری اسکول کے حیثیت سے 1957میں ہوا تھا۔گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران اس ادارے میں بتدریج ترقی ہوئی ہے جس میں 2009 میں گرلز کالج کا قیام بھی شامل ہے۔سوئی ماڈل اسکول وگرلز کالج سے 45 فیصد طالبات سمیت سالانہ 3,000 سے زائد طالبعلم مستفید ہوتے ہیں۔

1950کی دہائی میں،کمپنی کی شناخت ،سوئی گیس فیلڈ کی دریافت سے ہی بلوچستان کی پسماندہ آبادیوں کے معیار ِ زندگی کوبہتر بنانے میں پی پی ایل کا اہم حصہ رہا ہے۔درحقیقت ، کمپنی اپنے سماجی بھلائی پروگرام کے سالانہ بجٹ کاتقریباً 80 فیصد بلوچستا ن میں فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں پر خرچ کرتی ہے۔صرف 16 - 2015 میں ہی اس حوالے سے کمپنی کے تقریباً 1 بلین روپے کے سی ایس آر بجٹ میں سے 800 ملین روپے صوبہءبلوچستان میں خرچ کئے گئے ہیں۔