امیدواروں کی تفصیلات

1۔ جناب عبد السمیع کیہر

جناب عبد السمیع کیہرنے کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی لاس انجیلس سے بیچیلر آف سائنس ، لاس انجیلس پیئرس کالج سے ایسو سی ایٹ آف آرٹس اور کیلی فورنیا اسٹیٹ یو نیورسٹی ڈامنگیز ہلزسے ایم بی اے کی ڈگری حا صل کی۔وہ ایک تجربہ کار بینکر اور ایک ممتاز کیپٹل مارکیٹ پروفیشنل ہیں جن کےپاس مالیاتی سروسز اور مالیاتی اداروں کی انتظام کاری کا 24سال سے زائدوسیع تجربہ ہے۔این بی پی لیزنگ لمیٹڈپاکستان کے مینجنگ ڈائیریکٹر اور سی ای او سے قبل وہ سندھ ریوینیو بورڈ کے مشیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے 15سال سے زائد عرصہ پاک لیبیاہولڈنگ کمپنی میں خدمات انجام دیں ،ان کا تجربہ کاروباری، سرمایہ کاری، ایکوئیٹیس اور تجارتی بینکنگ، مالیاتی انتظام کاری کے لئےمعیاری حل کی مشاورتی خدمات، ایس ایم ای سیکٹر پر محیط ہے۔

کیہر صاحب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس کے بورڈ ڈائیر یکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پچھلے 12 سال سے زائد عرصے سے سرفہرست بزنس انسٹی ٹیوٹس جن میں آئی بی اے اور گرین وچ یونیورسٹی شامل ہیں، میں بطور وزٹنگ فیکلٹی ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مختلف کمپنیز کے بورڈ ڈائر یکٹر رہ چکے ہیں۔

2۔ جناب عابد سعید

جناب عابد سعید نے 1979میں گورنمنٹ کالج،لاہور سے معاشیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد 1980 پاکستان سول سروس کے ضلعی انتظام کاری گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

وہ عوامی انتظامیہ (پبلک ایڈمنسٹریشن) کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے حکومتِ سندھ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خیرپور، جیکب آباد اور موروکے خدمات انجام دیں۔وہ مزید ٹریننگ کے لئے یو ۔ایس ۔اے گئے اور 1987میں جورج واشنگٹن یونیورسٹی،یو۔ایس۔اے سے ایم۔اے (ایڈمنسٹریٹو سائنس )کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے بھکھر،لودھراں،قصور اور فیصل آباد کے اضلاع میں بطور ڈپٹی کمشنر کے خدمات انجام دیں۔انہوں نے حکومتِ پنجاب میں مختلف عہدوں پر کام کیا جن میں سیکریٹری پنجاب برائے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم ،جنگلات،جنگلی حیات، فشریز اور سیاحت شامل ہیں۔ان کا تبادلہ وفاقی حکومت میں کیا گیا جہاں انہیں بطور اضافی سیکریٹری برائے وزارتِ خوراک و زراعت تعینات کیا گیا۔انہوں نے 24اگست2011سے22جنوری2015تک بطور اضافی سیکریٹری اور سیکریٹری برائے وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے خدمات سرانجام دیں۔انہوں نے ستمبر 2016تک بطور سیکریٹری برائے وزارتِ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی کام کیا۔انہوں نے اکتوبر 2016 میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخواہ کا عہدہ سنبھالا اور اگست 2017 میں ریٹائر ہوئے۔

وہ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او ۔جی۔ڈی۔سی۔) ،انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم(پرائیویٹ) لمیٹڈ(آئی۔ایس۔جی۔ایس)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس۔این۔ جی۔پی۔ایل) اور پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ(پارکو)کے بورڈ ممبر رہے ہیں۔

3۔ جناب آغا جان اختر

آغا جان اختر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک آفیسر ہیں ۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے الیکٹریکل انجنیئرنگ میں بیچلرز کی ڈگری اور پیپرڈائن یونیورسٹی سے مینجمنٹ میں ماسٹرز آف بزنس ایڈمنسٹریشن( ایم بی اے )کی ڈگری حاصل کی۔وہ کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ،ہارورڈ یونیورسٹی، دی ایشیا پیسِفِک سینٹر آف سیکیورٹی اسٹڈیز ،ہوائی اینڈدی نیئر ایسٹ ساؤتھ ایشیا سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز(این۔ای۔ایس۔اے)، یو ۔ایس ۔اے کے سابق طالبعلم ہیں۔انہیں مینجمنٹ اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے شعبوں میں مہارت حاصل ہے۔

4۔ جناب فیصل بنگالی

جناب فیصل بنگالی نے رائس یونیورسٹی ہوسٹن ٹیکساس سےفنانس میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی جس سے قبل انہوں نے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی ایونسٹن ، الینوئس سے الیکٹریکل انجینیئرنگ میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے 1991میں اپنے کیریر کا آغاز اپنے خاندانی کاروبار بنگال فائبر انڈسٹریز لمیٹڈ سے کیا۔یہ کمپنی پولیسٹر فلامینٹ یارن تیا رکرتی تھی۔1994 میں انہوں نے اےکےڈی سیکیورٹیز میں بطور سیلز ہیڈ کے شمولیت اختیار کی اور بعد میں ترقی پاکر 1997میں بطورڈائر یکٹر فائز ہوئے۔انکی ملازمت کی مدت کے دوران اے کے ڈی سیکیورٹیز مستقل بنیادوں پر مجموعی تجارتی حجم کے اعتبار سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (سابق کراچی اسٹاک ایکسچینج) کی سب سے بڑی سیکیورٹی فرم کے درجے پر قائم رہی۔

2004 میں وہ اے کے ڈی انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کے بانی سی ای او کے منصب پر فائز ہوئے جس کا تعلق کاروباری سرمایہ کاری مشاورت اور اثاثوں کے انتظام سے ہے۔2004 سے 2008 تک انہوں نے بطور سی ای او گولڈن ایرو سیلیکٹڈ اسٹاکس فنڈ لمیٹڈ ،جو کہ پاکستان کا سب سے پراناکلوسڈ اینڈ میوچوئل فنڈ ہے،میں خدمات سر انجام دیں۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

5۔ جناب حسن ناصر جامی

حسن ناصر جامی 1989سے پاکستان کی سول سروسز کے ممبر ہیں۔انہوں نے 1986میں قائداعظم یونیورسٹی ،اسلام آباد سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔بعدمیں انہوں نے سسیکس یونیورسٹی یوکے(96-1995) سے دیہی ترقی کے شعبے میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اورپبلک پالیسی میں نارتھ کیرولینا یونیورسٹی،یو ایس اے(04-2003) کےلئے ہوبرٹ ہمفری فیلوشپ حاصل کی۔

ان کے پاس پبلک سیکٹر کے مختلف بنیادی شعبوں میں انتظام کاری اور پراجیکٹ مینجمنٹ کا 27 سال سے زائد تجربہ ہے۔پالیسی پلاننگ اور نفاذ، مقامی گورنمنٹ کا ڈھانچہ اور اصلاحات، سماجی اور توانائی سیکٹر کی سروس ڈیلوری کا طریقہ کار،اور کارکردگی جانچنے کے سسٹم کا قیام ان کی خصوصیات ہیں۔

اگست 2017میں پیٹرولیم ڈویژن میں شمولیت سے قبل انہوں نے اکتوبر 2014سے اگست 2017 تک بطور اضافی سیکریٹری برائے وزارتِ پانی وبجلی کے خدمات سر انجام دیں۔وہ کئی بڑے پراجیکٹس جیسے تربیلا 4اور دیامر بھاشا ڈیم،داسواور نیلم جہلم ہائیڈرو پاورپراجیکٹس وغیرہ میں نگرانی،تعاون اور پالیسی سپورٹ کے کام پر مامور رہے۔انہوں نے وزارتِ پانی وبجلی ، آئی۔آر۔ایس۔اے،سی۔ای۔اے،سی۔ایف۔ایف۔سی،ڈبلیو۔سی۔اے۔پی،این۔پی۔سی۔سی، این۔ای۔ایس۔پی۔اے۔کے،اور پی۔ سی۔آئی۔ڈبلیو کے انتظامی، معاشی اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی بھی کی۔

وزارتِ پانی و بجلی میں رہتے ہوئے انہیں نیشنل انرجی کنزرویشن سینٹر(ای۔این۔ای۔آر۔سی۔او۔این) کے مینجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ بھی تفویض کیا گیا۔یہ ادارہ معیشت کے تمام شعبوں(صنعت،زراعت،ٹرانسپورٹ،تعمیراوراندرونِ ملک) توانائی کے تحفظ اور توانائی کی کارکردگی کے معاملات کو دیکھتا ہے۔

اس وقت وہ وزارتِ توانائی، پیٹرولیم ڈویژن میں بطور اضافی سیکریٹری کے کام کر رہے ہیں۔وہ ریگولیٹری پالیسی کی ضا بطہ بندی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ کام پیٹرولیم ڈویژن کا پالیسی وِنگ کرتا ہے جو کہ پانچ ڈائریکٹوریٹس پر مشتمل ہے۔ ان میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آئل، گیس، لکوئیفائیڈ گیس اور مخصوص پراجیکٹس/ انتظامات شامل ہیں۔

6۔ ڈاکٹر ابنِ حسن

ڈاکٹر ابنِ حسن نے 21 مارچ 2017 کو پی پی ایل بورڈ میں شمولیت اختیار کی ۔وہ پاکستان پٹرولئیم لمیٹڈ بور ڈ کے چئرمین ہیں اور بورڈ فائیناننس کمیٹی کے سربراہ اور اسٹر یٹجی کمیٹی کے رکن بھی ہیں ۔

انہوں نے 2013 میں اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری مینجمنٹ اسٹڈیز میں خصوصی تربیت کے تحت کنگز کالج لندن سے حاصل کی ۔اُنہیں بین الاقوامی کاروبار میں مہارت حاصل ہے۔ وہ انسٹیٹیو ٹ برائے چارٹرڈاکاؤنٹس(ICAP) کے رکن ہیں اورپاکستان کے پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ جو پی ایچ ڈی بھی ہیں۔

1989میں چارٹرڈ اکااونٹنٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے 2006تک ایک سرفہرت چارٹرڈ اکااونٹنس کمپنی میں پارٹنر کے طور پر کام کیا۔پھربطورمنیجنگ پارٹنر کے UHY Hassan Naeem&Co کے نام سے اپنی ایک کمپنی قا ئم کی ۔

اُنہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آڈٹ سے متعلق کام انجام دینے، کاروباری محاصل، اداروں کے حصول و انضمام ،نظام کی تشکیل اور عملدرآمد،قرضہ جاتی رسک/خطرات کے لئے مشاورت، کاروباری امکان پذیری اور منصوبوں کی تشخیص جیسے امورکاو سیع تجربہ حاصل ہے۔ان کے تجربات میں قومی وقار کی حامل تحقیقات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی وایکسچینج کمیشن برائے پاکستان اور ہا ئی کورٹ کے تحت دیئے گئے امور بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر ابنِ حسن کو بین الاقوامی کاروبارجیسے موضوعات پر آزادانہ اور نامور بین الاقوا می اسکالرزکے ساتھ مل کر تحقیق کرنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے۔ ایک مالی مشیر کے طور پر اُن کے تجربات میں اداروں کی تعمیر نو،اور وسیع پیمانے پر صنعتی اورخدمات دینے والے شعبوں کے لئے سسٹم اور آپریشنل طریقہ کارکی تشکیل جیسے کام شامل ہیں۔وہ ورلڈ بینک اوردیگر عطیات دینے والی بین الاقوامی ایجنسیوں کے تعاون سے جاری مختلف مالی مشاورتی امور میں بھی شامل رہے ہیں۔

ڈاکٹر حسن نے 'Evaluating Companies for Mergers & Acquisitions' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ ساتھ ہی وہ مختلف اعلی تحقیقاتی جریدوں کے لئے بھی لکھتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ICAP میں تدریس کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

وہ پاکستا ن ا نسٹیٹیوٹ برائے کارپوریٹ گورننس کے سند یافتہ ڈائریکٹر- اور پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے فیشن و ڈیزائن لاہورکے لئے سینیٹ برائے پاکستان کے ممبرہیں۔ وہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹیڈ کے سابقہ ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

7۔ جناب محمد جلال سکندر سلطان

محمد جلال سکندر سلطان نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 27 اپریل2017کو شمولیت اختیار کی۔ وہ بورڈ کی ہیومین ریسورس اور آڈٹ کمیٹیوں کے رُکن ہیں۔

انہوں نے کیڈٹ کالج حسن ابدال سے ایف ایس سی کیا اور پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے طب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1987میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مسابقتی امتحان (ڈی ایم جی/ پی اے ایس) پاس کرنے کے بعد انہوں نے 1989 میں بطور اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد اپنے سول سروس کیریئر کا آغاز کیا۔

گزشتہ28برسوں کے دوران،محمد جلال سکندر سلطان نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد،ڈائیریکٹرجنرل ایکسائز و محاصل ، سیکریٹری ابلاغ و امور، سروسز و عمومی ایڈمنسٹریشن اور پنجا ب کے کئی ضلعی حکومتی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر کام کیا۔اس دوران انہوں نے مفادِ عامہ میں کئی اصلاحات متعارف کرائیں۔

ان کی اہم کامیابیوں میں ڈائیریکٹر جنرل امیگریشن وپاسپورٹ کے طور پر کرپشن پر قابو اور بطور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے اچھی گورننس کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ انہوں نے بطور چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر، آزاد جموں و کشمیر میں پُرامن اور شفاف الیکشن کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس عہدے پر وہ 18 اپریل2017کو سیکریٹری پیٹرولیم وزارت پیٹرولیم قدرتی وسائل کا چارج سنبھالنے تک فائز رہے ہیں۔

وہ آئل و گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں۔

8۔ جناب محمد ساجد فاروقی

محمد ساجد فاروقی نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ میں 21 مارچ 2017کو شمولیت اختیار کی۔ وہ بورڈ کی آڈٹ کمیٹی کے چیئرمین اور پروکیورمنٹ و انٹرپرائز رسک کمیٹیوں کے رُکن بھی ہیں۔

ساجد فاروقی کے پاس کاروبار اور سرمایہ کاری کی مشاورت، اثاثہ جات کے انتظام، کاروباری مالیات، انضباتی معاملات، مشاورت، کاروبار سازی کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کام کرنے والی کمپنی فن ٹیک کے منتظم اعلیٰ ہیں۔ مزیربرآں وہ تزویراتی امور پر کمپنیوں کے ایک منتخب گروپ کو حکمت ِ عملی کے معاملات سے متعلق مشوروں سے بھی دیتے ہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے(مینا) پر توجہ مرکوز کرنے والے ورلڈ بینک گروپ کے رُکن انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شعبے کے ساتھ کام کیا ہے۔ مینا ٹیم کا حصہ رہتے ہوئے ان کو کئی وفاقی اور صوبائی شعبہ جات کے ساتھ کام کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک کاروباری معاملات پر بھی کام کرنے کا موقع ملا ہے۔

آئی ایف سی میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل ساجدفاروقی نے کئی مشہور اداروں بشمول جے ایس گروپ، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی )پی ٹی اے (، انٹرنیشنل اسیٹ مینجمنٹ کمپنی اور اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کے اشوریشنس و بزنس ایڈوائزری گروپ کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس مدت میں ان کی قابلِ ذکر کامیابیوں میں جے ایس گروپ کا حصہ رہتے ہوئے2ارب ڈالر کے مجموعی حجم کی 30 سے زائد کاروباری لین دین اور پی ٹی اے سے وابستگی کے دوران پاکستان کے موبائل Sector پر ایک ایوارڈ جیتنے والی رپورٹ کی تصنیف کی جس کی اشاعت سے دونئے موبائل لائسنسوں کے اجراءکے علاوہ 5ارب ڈالر سے زائد کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ممکن ہوسکی۔

ساجدفاروقی انسٹیٹیوٹ برائے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سی ایف اے انسٹیٹیوٹ، امریکہ سے چارٹرڈ فنانشل انالسٹ ہیں۔ وہ سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کے بانی رُکن ہیں۔

9۔ جناب ندیم ممتاز قریشی

جناب ندیم ممتاز قریشی نے 16 ستمبر 2014 کو پی پی ایل بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔ وہ بورڈ آڈٹ کمیٹی کے چیئرمین، ہیومن ریسورس اور پروکیورمنٹ کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔

36 سے زائدسالوں پر محیط اپنے پیشر وارانہ کیریئر کے دوران جناب ممتاز قریشی مختلف کاروباری منصوبوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے خلیجی خطے میں چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسررکی حیثیت سے مختلف اداروں کی ،جن میں سے بیشتر تیل کی فیلڈز کے لیے آلات اور کیمیائی مادے فراہم کرنے کے کاروبار سے وابسطہ تھے، شروعات اورانتظام کاری کی۔

جناب ندیم ممتاز قریشی تیل و گیس کی صنعت کی گہری سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور سعودی آرامکو جیسے تیل کی دریافت، پیداوار اور ترسیل کے بڑے اداروں سے وابسطہ رہ چکے ہیں۔

انہوں نے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی سے سول انجینئرنگ میں ایس بی اور ایس ایم اور ہارورڈ بزنس اسکول سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔ وہ جامعہ کراچی سے عربی میں ایم اے کی سند بھی رکھتے ہیں۔

10۔ جناب سعید اللہ شاہ

جناب سعید اللہ شاہ نے اگست 2013میں پی پی ایل کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی اور 16 ستمبر 2014 کو ڈائریکٹر کی حیثیت سے دوبارہ منتخب ہوئے۔ وہ بورڈ اسٹریٹجی و آپریشنز، آڈٹ اور پروکیورمنٹ کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔

پیشے کے اعتبار سے پٹرولئیم ارضیات (جیولوجسٹ) کےماہر اور صنعت میں وسیع تجربے کے حامل جناب سعید اللہ شاہ پٹرولیئم جیولوجی میں ماسٹرز کی سند رکھتے ہیں اور کینیڈا، ناروے اور امریکہ کےمعروف اداروں سے متعلقہ شعبوں میں تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔

وہ وزارت پٹرولیئم اور قدرتی وسائل سے گذشتہ 30 سالوں کے دوران مختلف عہدوں پر وابستہ رہے ہیں جن میں ڈائریکٹر جنرل (گیس)، ڈائریکٹر جنرل (تیل)، ڈائریکٹر جنرل (انتظامیہ/خصوصی منصوبہ جات) شامل ہیں اور اس وقت ڈائریکٹر جنرل پٹرولیئم کنسیشنز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کئی عالمی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے ۔ ساتھ ہی وہ توانائی کے حوالے سےایران، بھارت، ترکمانستان، ترکی، یوکرین اور الجیریا سے دو طرفہ بات چیت کے قومی وفد کے سرگرم رکن رہے ہیں۔

جناب سعید اللہ شاہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (پرائیوٹ) لمیٹڈ اور ہائیڈروکاربن ڈيولپمنٹ انسٹیٹیوٹ برائے پاکستان کے بورڈز میں خدمات دے چکے ہیں۔

11۔ جناب سبینو سکندر جلال

جناب سبینو سکندر جلال وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن)،حکومتِ پاکستان کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔ایک سینیئر سول سرونٹ ہونے کے ناطے ان کے پاس وفاقی حکومت اور مختلف ایجنسیز میں 20سال سے زائد کام کا تجربہ ہے۔انکی تقرری میں جوائنٹ سیکریٹری برائے وزارتِ مواصلات، ڈائریکٹر جنرل(کاروباری سروسز)کامپیٹشن کمیشن آف پاکستان، جوائنٹ سیکریٹری برائے وزارتِ دفاع، ممبر فنانس، ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹکسیلا اور ڈپٹی فنانشل ایڈوائزربرائےدفاع، پیداوار اور خریداری شامل ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری چاندی کے تمغے کے ساتھ حاصل کی۔ انہوں نے گورننس مینجمنٹ، پبلک پالیسی، پبلک ایڈمنسٹریشن اور پبلک فنانس سے متعلق پاکستان اور بیرونِ ملک کئی ایک تربیتی کورسز بھی مکمل کئے۔

12۔ جناب سلما ن اختر

سلمان اختر 21مارچ2017کو پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ بنے۔ وہ بورڈ کی اسٹریٹجک کمیٹی کے چئیرمین اور ہیومن ریسورس و پروکیورمنٹ کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔

سلمان اخترٹیک لوجکس جو کہ ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی سروس کمپنی ہے، کے بانی اور شریک منتظم اعلیٰ ہیں۔انہوں نے انجینئرنگ میں امتیازی خدمات کی فراہمی پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اورمختلف ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے طریقہ ء کار پرمبنی کمپنی کی ترقی میں اہم کردار اداکیا ہے۔ وہ نقل و حرکت ، صحت عامہ اور اعلیٰ تعلیم کے شبعہ جات پر مرکوز تین کمپنوں کے شریک منتظم اعلیٰ بھی ہیں۔

ان کی موجودہ تکنیکی دلچسپیوں میں انٹرپرائز سسٹم کے لیے حل فراہم کرنے کے ساس ماڈل، اعلٰی درجے کے مسائل کےحل کےلیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور بی پی ایم/ایس او اے،آپریشنل کاروباری ذہانت اور ایونٹ پر مبنی کاروباری نظام (event driven business system) کاانضمام شامل ہیں۔

انہوں نے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔

13۔ جناب یاسر احمد اعوان

جناب یاسر احمد اعوان نومبر 2016 سے ستارہ پرآکسائیڈ لمیٹڈ (ایس پی ایل)کے بورڈ ڈائیر یکٹر ہیں۔ انہوں نے دی ریسورس گروپ (ٹی آرجی)میں بھی بطور ڈائریکٹرخدمات سرانجام دیں اور اس منصب پر فروری 2010میں فائزہوئے۔

آپ ایک فائینینشل پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ تیل اور گیس سیکٹر کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اچھی کاروباری گورننس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ کراچی یونیورسٹی پاکستان سے کامرس کے شعبےمیں فارغ التحصیل ہیں اور مینجمنٹ اکاؤنٹنگ میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ (سی آئی ایم اے یو کے) رکھتے ہیں۔وہ انسٹیٹیوٹ آف کامرس اینڈمینجمنٹ اکاؤنٹنٹس پاکستان(آئی سی ایم اے پی)کے ایک مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ (اے سی ایم اے) ہیں۔