جائزہ

پاکستان پٹرولئیم لمیٹڈ (پی پی ایل)تیل وگیس کی تلاش ودریافت کے ایک سرگرم پروگرام پر عمل پیرا ہے ہے جو پیداوار کو بڑھانے اورگھٹتے ∕تخفیف ہوتے ہوئے ذخائر کی نئے ذخائر سے تجدید کے لئے کوشاں ہے۔ کمپنی نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے اور خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے بہترین اجتماعی کوششوں اور مقامی و بین الاقوامی دریافتی و پیداواری (ای اینڈ پی) کمپنیوں کے ساتھ حکمتِ عملی پر مبنی تعاون کے ذریعے جدید و ہم جہتی ٹیکنالوجی کے حصول اور انسانی وسائل کی استعداد کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

تیل وگیس کی تلاش ودریافت کے لیے ادارے کی حکمت عملی براہِ راست شراکت یا فارم-اِن کے ذریعے ان مقامات کی جانچ پڑتال پرمرکوز ہے جہاں ممکنہ ذخائر کی موجودگی کے امکانات ہیں ۔ مارچ 2013میں حکومت کی جانب سے منعقدہ بولی کےپچھلے مرحلے میں پی پی ایل نے 11 ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کیے تھے۔ جن میں سے 10 بحیثیت آپریٹر اور ایک بطور شراکت دار کے حاصل کئے۔

پی پی ایل نے انگلینڈ اور ویلز میں رجسٹرڈ تیل و گیس کی دریافت و پیداوار کی کمپنی ایم این ڈی ای اینڈ پی لمیٹڈ کے 100 فیصد حصص حاصل کر لئے۔ ماتحت ادارے کا نام تبدیل کرکے پی پی ایل یورپ ای اینڈ پی لمیٹڈ رکھا گیا ہے۔

ساتھ ہی پی پی ایل نےاپنی مکمل ملکیت کے تحت ایک ادارہ پی پی ایل ایشیا ای اینڈ پی بی وی بھی قائم کیا جو ایمسٹرڈیم، نیدرلینڈز میں رجسٹرڈ ہے ۔ یہ ادارہ خطے میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار پر توجہ دے گا۔ پی پی ایل نے بلاک 8، عراق میں عراق کی مڈ لینڈ آئل کمپنی کے ساتھ تیل وگیس کی دریافت ،پیداوار اور سروسز کے معاہدے کے تحت اپنی کاروباری شراکت پی پی ایل ایشیا ای اینڈ پی بی وی کو منتقل کردی ہے۔

اس وقت پی پی ایل اور اسکےماتحت اداروں کے پاس تیل وگیس کی دریافت و پیداوار کے لئے 47 اثاثے ہیں جس میں 27 بلاکس کوکمپنی خودآپریٹ کر تی ہے، جن میں عراق میں ایک بلاک بھی شامل ہے، جبکہ 20 بلاکس، جن میں پاکستان میں تین آف شور اور یمن میں دو آن شور لیزز شامل ہیں، میں پی پی ایل شرکت دار ہے۔